قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو وزیراعظم ہاوس میں طلب کر لیا گیا ہے اجلاس میں سیکیورٹی معاملات اور سیلاب سمیت دیگر معاملات پر غور ہوگا ، قومی سلامی کمیٹی اجلاس میں عسکری اور سول قیادت شریک ہو گی، اجلاس میں آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہان بھی شرکت کریں گے ،میڈیا رپورٹس کے مطابق اجلاس میں آئی بی اور آئی ایس آئی کے سربراہان خفیہ ریکارڈنگز کے متعلق قومی سلامتی کمیٹی کو بریف کریں گے اجلاس میں وزیر دفاع خواجہ آصف،، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ، وزیر خارجہ بلاول زرداری اور وزیر خزانہ بھی شریک ہوں گے
قبل ازیں وزیر اعظم ہاؤس سے اہم ڈیٹا ہیک، تحقیقات کے لیے اعلیٰ سطح پر تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں وزارت داخلہ نے تحقیقات کے لیے جے آئی ٹی تشکیل دے دی جے آئی ٹی میں حساس اداروں کا نمائندہ شامل ہو گا، میڈیا رپورٹس کے مطابق تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرے گی کیسے آئی ٹی ڈیٹا ہیک کیا گیا،جے آئی ٹی کو وزیراعظم ہاؤس کے عملے کو شامل تفتیش کرنے کا اختیارہوگا،وزیر اعظم ہاؤس میں ڈیوائسز لگائی گئیں یا موبائل سے ریکارڈنگ کی گئی ،تحقیقات ہوں گی،تحقیقاتی ٹیم جائزہ لے گی کہ کون کون سے افسران وزیراعظم ہاوس میں موجود تھے،وزیراعظم سیکریٹریٹ میں 6 ماہ سے مامور اسپیشل برانچ کے اہلکاروں سے بھی تحقیقات ہوں گی،وزیر اعظم ہاؤس اور پی ایم آفس پر مامور سیکیورٹی اہلکاروں کی نقل و حرکت محدود کر دی گئی وزیر اعظم ہاؤس میں موبائل لے جانے کی اجازت نہیں تھی،
گزشتہ روز وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ نے کہا تھا کہ ہو سکتا ہے یہ باتیں پارلیمنٹ لاجز یا اسپیکرچیمبر میں کی ہوں اور وہاں سے لیک ہوئی ہوں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ فون ہیک ہونا کوئی راکٹ سائنس نہیں ہے،‏ہو سکتا ہے کسی کا فون ہیک ہوا ہو اور باتیں ریکارڈ کی ہوں،آڈیو لیکس میں کوئی سیریس باتیں نہیں تھیں اس لیے احتیاط نہیں برتی گئی، آڈیو لیکس پر وزیر اعظم نے نوٹس لیا ہے، آڈیو لیکس پر تحقیقات کاآغاز کیا جائے گا،ہ وزیر اعظم ہاؤس کی سیکیورٹی میں سے کوئی شخص ہو سکتا ہے،تحقیقات ہونے دیں ،اسکے بعد کارروائی کریں گے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here