پشاور:پنجاب کے بعدایک اور صوبے نے عوامی خواہشات کا احترام کرتے ہوئے انتظامی معاملات کی بنیاد پرایک ضلع کو دوحصوں میں تقسیم کرکے ایک اور ضلع کا اضافہ کردیا ہے ، خیبرپختونخوا حکومت نے عوامی مطالبے پر جنوبی وزیرستان کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔نوٹیفکیشن کے مطابق جنوبی وزیرستان کو دو اضلاع میں تقسیم کر دیا گیا ہے جنہیں جنوبی وزیرستان اپر اور جنوبی وزیرستان لوئر کا نام دیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق جنوبی وزیرستان اپر دو سب ڈویژنز سرواکئی اور لدھا پر مشتمل ہوگا، اسپنکئی راغازئی کو نئے تشکیل شدہ اپر ڈسٹرکٹ کے ہیڈ کوارٹر کے طور پر نوٹی فائی کر دیا گیا ہے۔
تیرزا، سرواکئی، شوال، لدھا، مکین، شکتوئی اور سراروغہ کو جنوبی وزیرستان اپر میں تحصیل کا درجہ دیا گیا ہے اور ضلع جنوبی وزیرستان لوئر کا ہیڈکوارٹرز وانا کو قرار دیا گیا ہے۔
صوبائی ترجمان کا کہنا ہے کہ جنوبی وزیرستان کو بہترین انتظامی امور اور ترقی کیلئے 2 اضلاع میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جنوبی وزیرستان کی تقسیم کے بعد اب خیبرپختونخوا میں 36 اضلاع ہوگئے ہیں۔
یاد رہےکہ پنجاب میں پانچ نئے اضلاع بنانے کی منظوری دے دی گئی، تونسہ شریف، مری، وزیرآباد، تلہ گنگ اور کوٹ ادو نئے اضلاع ہوں گے۔
فیصلہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالٰہی کی زیرصدارت اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں سابق وفاقی وزیر مونس الٰہی اور سابق وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے بھی خصوصی شرکت کی۔صوبائی وزراء راجہ بشارت، محسن لغاری، راجہ یاسر ہمایوں، متعلقہ علاقوں کے اراکین اسمبلی بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔
پرویز الہٰی کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویزالہٰی کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2005 میں تونسہ کو ضلع بنانے کا اعلان کیا تھا۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اب تونسہ اور تلہ گنگ کو ضلع بنا نے کی منظوری بھی میں نے دی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا تونسہ اور تلہ گنگ کے عوام سے کئے گئے وعدے پورے کئے جانے پر اللہ تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہوں۔ مری، وزیرآباد اور کوٹ ادو کو بھی ضلع بنانے کی منظوری دی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here