جادو کر کے دولت مند بننے کی کوشش کے دوران ملزمان نے مبینہ طور پر دو خواتین کو موت کے گھاٹ اتار دیاواقعہ بھارت میں پیش آیا تھا، پولیس کے مطابق جادو کرانے کے لیے مالی مشکلات کے شکار جوڑے نے محمد شفیع کو تین لاکھ روپے ادا کیے جس نے دو خواتین کو ’قربانی‘ کے لیے فراہم کیا جن کو بعد ازاں ’بدترین تشدد‘ سے قتل کیا گیا پولیس نے ملزمان کو گرفتار کیا تو تہلکہ خیز انکشافات سامنے آئےپولیس نے گرفتار ملزمان کو عدالت میں پیش کیا،عدالت نے امیرہونے کے چکر میں دو خواتین کو بہیمانہ طریقے سے قتل کرنے کے جرم میں گرفتار تینوں ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دے دیا ہے، کیرالہ پولیس نے ملزمان کو عدالت میں پیش کیا تھا، اس موقع پر پولیس نے تحقیقات کے دوران سامنے آنیوالی چیزوں سے آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ قاتلوں نے ایک خاتون کو قتل کر کے اس کے 56 ٹکڑے کئے تھے، ملزمان نے قتل کے بعد خاتون کی لاش کا گوشت بھی کھایا، بھگوال سنگھ اور لیلیٰ نے خاتون کے جسم کے اعضاء کھانے کا اعتراف کیا ہے،گرفتار ملزمان میں بھگوال سنگھ، لیلیٰ ،شفیع عرف راشد شامل ہیںامیر ہونے کے لئے انسانی قربانی کیس میں دو خواتین کو قتل کرنے کے بعد ان کے جسم کے اعضاء گھر میں دفن کئے گئے تھے، واقعہ پر علاقے میں تہلکہ مچا ہوا ہے،ملزمان نے اعتراف کیا کہ انسانی گوشت کھانے کے بعد باقی گوشت گھر میں دفن کر دیا تھا،ملزمان نے اعتراف کیا کہ یہ سب انہوں نے امیر ہونے کے لئے کیا، جادوگیر شپی نے دونوں خواتین کو لالچ دیا تھا کہ وہ بلیو فلم انڈسٹری میں کام کریں گے تو معاوضہ اچھا ملے گاکوچی پولیس کمشنر ناگاراجو نے واقعہ کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ شفیع اس ظلم کا ماسٹر مائنڈ تھا تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اس نے متاثرین کے ساتھ ساتھ جوڑے کو بھی پھنسایا تھا شفیع نے کہا کہ غریب خواتین کو پیسے کے لیے پھنسانا اسکا مشغلہ تھا، اس نے بھگوال سنگھ اور لیلیٰ جوڑے کو قائل کیا کہ اگر وہ انسانی قربانی دیں گے تو انہیں دولت ملے گی قتل ہونے والی خواتین پدما اور روزلن کی لاشوں کو کئی ٹکڑوں میں کاٹ کر گھر کے پچھلے حصے میں دفن کیا گیا تھا، قتل کرنے کے بعد ھر کی دیواروں پر خون بھی چھڑکا گیا تھا. پولیس نے گھر کے صحن سے انسانی جسم کے اعضا برآمد کر لئے ہیںپولیس کے مطابق اس کیس کا مرکزی ملزم شفیع عادی مجرم ہے اور وہ 75 سالہ خاتون کے ساتھ زیادتی کیس میں پہلے بھی گرفتار ہو چکا ہے، اس نے کئی خواتین کے ساتھ زیادتی کی، ایک سال جیل میں رہا اور اسکے بعد ضمانت پر رہا، ملزم نے جتنی بھی خواتین کے ساتھ زیادتی کی انکی عمریں پچاس برس سے زیادہ تھیں،

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here