امریکہ میں وسط مدتی انتخابات کے لیے پولنگ کا عمل مکمل ہونے کے دو روز بعد بھی حتمی نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں اور 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود گنتی کا عمل جاری ہے۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امریکہ میں انتخابات کے بعد نتائج کا انتظار کوئی غیرمعمولی بات نہیں ہے۔ سب سے پہلے میڈیا گنتی کرنے والے کلرکس اور دیگر عہدیداروں سے ملنے والی معلومات اور دیگر شماریاتی تجزیوں کی بنا پر اپنی طرف سے بتاتا ہے کہ کس کی پوزیشن کیا ہے اور پھر بعض امیدوار اپنی برتری کے دعوے کرتے ہیں جبکہ اس کے ساتھ تجزیے بھی چلتے رہتے ہیں۔

نتائج میں تاخیر کی وجوہات

اگرچہ طویل انتظار امریکی ووٹرز کو پریشان کر سکتا ہے اور غیرملکی مبصرین کو سوالات اٹھانے کا موقع دے سکتا ہے لیکن اس طویل ہوتے عمل کی کچھ وجوہات ہیں۔
امریکہ میں انتخابات ڈی سینٹرلائز ہوتے ہیں اور 50 ریاستیں اس حوالے سے اپنے اپنے قوانین رکھتی ہیں۔
کچھ امریکی مشینوں کے ذریعے ووٹ ڈالتے ہیں جبکہ بعض کاغذی کارروائی کے تحت حق رائے دہی استعمال کرتے ہیں۔ کچھ خود جا کر پول کرتے ہیں جبکہ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ڈاک کے ذریعے ووٹ ارسال کرتے ہیں جبکہ ڈراپ باکس کا آپشن بھی موجود ہے۔
انتخابات کا اہتمام کرنے والے حکام زور دیتے آئے ہیں کہ نتائج کے لیے صبر کا مظاہرہ کیا جائے تاہم کچھ سیاست دان ایسا نہیں کر پاتے۔
امریکی صدر جو بائیڈن نے وسط مدتی انتخابات کو جمہوریت کے لیے ایک اچھا دن قرار دیا ہے (فوٹو: اے ایف پی)
ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے مارکو روبیو نے اس حوالے سے ٹویٹ کے ذریعے اپنی شکایت سامنے لائے۔
’اگر فلوریڈا میں ساڑھے 70 لاکھ ووٹوں کی گنتی پانچ گھنٹے میں ہو سکتی ہے تو کچھ ریاستیں صرف 20 لاکھ ووٹ گننے کے لیے اتنا وقت کیسے لے سکتی ہیں؟‘
امریکی ایک بیلٹ پیپر پر مختلف امیدواروں اور بعض دیگر اقدامات کے حوالے سے ووٹ ڈالتے ہیں اس لیے ان کی گنتی پر وقت لگتا ہے۔
کورونا وبا کی وجہ سے ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کا سلسلہ کافی بڑھتا دکھائی دیا اور اس بار بھی بڑی تعداد میں لوگوں نے ایسا ہی کیا ہے۔ اس کی وجہ سے معاملات تاخیر کا شکار ہو رہے ہیں کیونکہ ذریعے بھجوائے جانے والے بیلٹ پیپرز الیکشن کے کافی روز بعد سٹیشنز پر پہنچتے ہیں۔
اوہیو اور الاسکا میں ان ووٹوں کو بھی شمار کیا جاتا ہے جو دس روز بعد تک آتے ہیں۔
اسی طرح بہت سی ریاستوں میں انتخابی سسٹم کے عہدیداروں کو ڈاک کے ذریعے آنے والے ووٹوں کی پہلے سے گنتی شروع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔
امریکہ میں بڑی تعداد میں لوگ ڈاک کے ذریعے بھی ووٹ ڈالتے ہیں (فوٹو: اے ایف پی)
انتخابی نتائج میں تاخیر سے سازشی تھیوریز کو ہوا ملتی ہے اور کچھ ایسی ہی فضا 2020 کے انتخابات میں اس وقت دیکھنے کو ملی تھی جب سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جھوٹا دعوٰی کر دیا تھا کہ ان کے ساتھ دھاندلی کی گئی۔
اس وقت ڈونلڈ ٹرمپ اور موجودہ صدر جو بائیڈن مدمقابل تھے اور دونوں کے حوالے سے حتمی نتیجہ چار روز تک سامنے نہیں آ سکا تھا۔

’جمہوریت کے لیے اچھا دن‘

جمعرات کو امریکی صدر جو بائیڈن نے وسط مدتی انتخابات کو جمہوریت کے لیے ایک اچھا دن قرار دیا تھا۔
وائٹ ہاؤس میں پریس کانفرنس کے دوران امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ اتخابات کے نتائج اس بات کی علامت ہیں کہ امریکی جمہوریت گذشتہ کئی برسوں سے خطرے میں آنے کے باوجود برقرار اور محفوظ ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here