سپریم کورٹ میں نیب ترامیم کیخلاف عمران خان کی درخواست پر سماعت ہوئی
سپریم کورٹ نے نیب آرڈیننس آنے کے بعد اب تک نیب ریفرنسز میں ہونے والی سزاؤں کا ریکارڈ طلب کر لیا،سپریم کورٹ نے جمعہ تک نیب ریفرنسز میں ہونے والے سزاوں کا ریکارڈ جمع کرانے کا حکم دے دیا،چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے وکیل خواجہ حارث کی جانب سے دلائل دیئے گئے،وکیل نے کہا کہ عوامی عہدے دار عوامی اعتماد کا حامل اور جوابدہ ہوتا ہے، توہین عدالت کا قانون انسانی حقوق کی خلاف ورزی پر قانون سازوں کی نااہلیت پر اڑایا،عدالت نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ آپ کہنا چاہ رہے ہیں بنیادی انسانی حقوق کے خلاف بنایا گیا قانون پارلیمنٹیرینز کی نااہلیت پر اڑایا جاسکتا ہے؟
چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ نااہلیت پر نہیں توہین عدالت قانون جانبدار ہونے کی وجہ سے کالعدم قرار دیا، جسٹس منصور علی شاہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہاں لکھا ہے کہ پارلیمنٹ کی قابلیت نہ ہونے کی وجہ سے قانون کالعدم ہوا؟ عدالت نے بنیادی حقوق کے خلاف قانون سازی مسترد کی کبھی نہیں کہا کہ پارلیمان کی قابلیت نہیں،عدالت نے کبھی پارلیمان کی اہلیت یا قابلیت پر سوال نہیں اٹھایا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یہ کہیں لکھا نہیں بلکہ سمجھ کی بات ہے،جعلی بینک اکاؤنٹس کیس میں بنیادی انسانی حقوق کا تعلق عوامی اعتماد سے جوڑا گیا،نیب کیس مختلف ہے، خواجہ حارث نے کہا کہ اب بنیادی انسانی حقوق کو تحفظ دینا ہے یا نہیں عدالت دیکھے، سپریم کورٹ نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کر دی
واضح رہے کہ عمران خان نے موجودہ حکومت کی جانب سے نیب ترامیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر رکھا ہے ،عدالت عظمیٰ میں دائر درخواست میں عمران خان نے استدعا کی تھی کہ سیکشن 14،15، 21، 23 میں ترامیم بھی آئین کے منافی ہیں۔ نیب قانون میں یہ ترامیم آئین کے آرٹیکل 9، 14، 19A, 24, 25 کے بنیادی حقوق کے برعکس ہیں، نیب قانون میں کی گئی ان تمام ترامیم کو کالعدم قرار دیا جائے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here