اسلام آباد کی مقامی عدالت میں سارہ انعام قتل کیس کی سماعت ہوئی

سیشن جج عطاء ربانی نے سارہ انعام قتل کیس کی سماعت کی، پراسیکیوشن کی گواہ ڈاکٹر بشریٰ کا بیان قلمبند کیا گیا، ڈاکٹر بشریٰ نے عدالت میں بیان دیتے ہوئے کہا کہ سارہ انعام کے ماتھے پر تقریباً 9 سنٹی میٹر زخم کا نشان تھا، سارہ انعام کے سر پر تقریباً 12 سنٹی میٹر زخم موجود تھا،سارہ انعام کے ماتھے، چہرے، بازو، ہاتھ، کمر اور

کان کے پاس بھی متعدد زخم تھے،پراسیکیوٹر راناحسن عباس اور مدعی کے وکیل راؤ عبدالرحیم عدالت میں پیش ہوئے

واضح رہے کہ صحافی ایاز امیر کے بیٹے شاہنواز امیر نے اپنی اہلیہ سارہ کو قتل کردیا تھا ایاز میر کی بہو دبئی سے واپس آئی تھی شاہنواز نشے کا عادی تھا اس نے نشے کی حالت میں اپنی بیوی کا قتل کیا۔ سارہ کا قتل بھی بالکل نور مقدم والے وحشیانہ طریقے سے کیا گیا۔ لوہے کا راڈ مارا پھر پانی کے ٹپ میں ڈبودیا۔ شاہنواز امیر کی کینیڈین نژاد سارہ سے تیسری شادی تھی مقتولہ سارہ دبئی میں ملازمت کرتی تھی اور دونوں کی تین ماہ پہلے ہی شادی ہوئی تھی مقتولہ کا سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر شاہنواز سے رابطہ ہوا تھا، پھر دونوں نے شادی کر لی

قتل کے بعد ملزم نے اپنے والد ایاز امیر کو لاش کی تصویر بھیجی، پولیس نے ملزم کو گرفتار کر رکھا ہے، پولیس نے ایاز امیر کو بھی گرفتار کیا تھا تا ہم عدالت نے اس مقدمے سے ایاز امیر کو ڈسچارج کیا ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here